پارچہ باف

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کپڑا بننے والا، جولاہا۔ "اکثر پارچہ باف تو ہجرت کر کے سیکسینی چلے گئے۔"      ( ١٩٤٦ء، معاشیاتِ قومی، ١٣٨ )

اشتقاق

فارسی میں اسم "پارچہ" کے ساتھ "بافیدن" مصدر سے مشتق صیغہ امر 'باف' لگانے سے اسم فاعل ترکیبی بنا۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم گاہے اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩٤٦ء میں "معاشیاتِ قومی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کپڑا بننے والا، جولاہا۔ "اکثر پارچہ باف تو ہجرت کر کے سیکسینی چلے گئے۔"      ( ١٩٤٦ء، معاشیاتِ قومی، ١٣٨ )

جنس: مذکر